By Idrees Azad – افرودیتی کے مندر پر

  ایتھِنا!  میں ترا سقراط جو پی پی کے پَلا زہر کے جام ایتھِنا! یہ میرے پیالے میں جو تھوڑا سا بچا ہے یہ جُنُوں ہے تو قبا اب بھی سلامت کیوں ہے؟ اور نہیں ہے ۔۔۔ تو قیامت کیوں ہے؟ اے کہ تُو پارس ِ آشفتہ!  شبِ ضبط کے چاند! اے شب ِ ضبط کے چاند! اپنی کرنوں کو اُچھال اور مرے غار ِ فلاطون کو روشن کردے! اے کہ تُو نغمۂ سربستہ! مجھے مندِرِ الفت کا برہمن کردے! سنگِ اسود کو مرے  خلدِ ملامت سے نکال! اے! کہ تُو پارس ِ…Read more …