Ghazal I

Ghazal I

ہم بھی تو تھے درخشاں جو نہ جارِ یار ہوتےہم بھی بہت گراں تھے جو نہ تار تار ہوتے ہم بھی بہت تھے رنگیں ہم بھی بہت تھے نادرہم بھی کِھلے ہی رہتے جو نہ ریگزار ہوتے سرِ کوئے یار نکلے شبِ بے قمر سے ہو کرغمِ دل چراغ کرتے جو اگر شرار ہوتے ہم کو بھی تھا مکمل منزل پے اپنی ایماںہم نہ اگر اسیرِ کفِ پائے یار ہوتے اپنے جہاں کی اپنی اک کہکشاں بناتےتارے تیری جبیں کے جو اگر ادھار ہوتے ہم بھی اگر سنبھلتے ہم کیوں نہ مسکراتےہم خار…Read more …
آؤ زرا دیکھیں

آؤ زرا دیکھیں

آؤ زرا دیکھیںکیسے جانتے ہیں ہمکہ کب کوئ زیاں بنتا ہےروگ جاویداںاک ہار کیسے زندگی کو نار کرتی ہےکچھ لوگ جب جائیںتو کب احساس ہوتا ہےکہ انکے بعد شمع زیست گرچے گل نہیں ہوگیمگر اب وقت کے صحرا میںعریاں ٹمٹمائے گییقینی بے یقینی کیسیاہ پرخار راہوں سےقباء ملمی الجھےگی اور دامن بچائے گی تو بس پھر پوچھنا خود سےکہ اس غم سے جھگڑنا ہےیا پیہم مسکرانہ ہےکسی غم کو انا کے پار رکھنا ہےیا اسکے سوز سے آگے کو جانا ہے تو بس پھر سوچنا خود سےکہ جو بھی وقت باقی ہےکبھی دھندلہ بھی کر پائےگااس…Read more …
گزارشات

گزارشات

اے وسعتِ ارض و سماء اے وحشتِ دشت و نگر اے صر صر و بادِ خزاں اے مشکل جبرو قدر جوڑو ذرا اک بزمِ غم پھینکو زرا کچھ رنگِ سوز چھیڑو فغاں کا راگ تم اک نغمہ غم ہائے روز اے لرزشِ لفظ و لِساں اے گردشِ صد ماہ و سال اے تلخی ایں امتحاں اے پستی عزم و خیال لکھو مزید اک مرثیہ  کھینچو زرا دل کی قبا اک حرفِ آس، پیکاِن سَم کھولو زرا رمز جفا ڈھونڈو کوئ بنجر جہاں بیجو کوئ شجِر صبر برسے کوئ ابرِ رحم نکھرے کوئ قوس ِقزاء ہو ضبط…Read more …
آج

آج

آج کس ساز سے سوزِ دروں گویا ہو سکوت دہن کو کوسیں یا تارِ وینا کو قحط ہےسُر کا، اور ضخیم میری حسرتِ مے ہم کسی قفل کو توڑیں یا جام و مینا کوRead more …
مٹی کی گاڑی

مٹی کی گاڑی

میری مٹی کی گاڑی اور اسکے آگے مٹی کا بیل اس سے پہلے کچھ روکھی مٹی اس سے پہلے تھوڑا سا پانی اس میں تھوڑی مٹی ڈالی یا مٹی میں ڈالا پانی یاد نہیں ترتیب مکمل بات ہوئ اب بہت پرانی میں نے پھر مٹی کو گوندھا اسکو موڑا اور پھر توڑا پہلے بنائے چاروں پہئے پھر گاڑی کا جسم بنایا مٹی ڈالی پانی ڈالا اور گاڑی کا حسن نکھارا پھر مٹی کا بیل بنایا گاڑی کو اسکے ساتھ لگایا گرتی خاک کو کچھ پانی نے جڑ رہنے کا بھید سکھایا.. خیر پھر…Read more …

دو غم

وہ ایک منجمد آنسوجو تمھارے رخسار پر عیاں ہےتمھاری ہنسی سے لڑ رہا ہےوہ ایک آنسو جو تمھارے غم کا پتا نہیں ہےتمھارا غم تو بہت بڑا ہےاور تمھارا حوصلہ بھیمیرا سوز دل تو فقط روگ دوراںاک عذاب ہے جو سلگ رہا ہےنہ کسی کو توڑے نہ کسی کو جوڑےمیرا غم تو خیر.. کوئ غم نہیں ہے کیا برا تھا کہ تم اس سوز کے مقابلذرا بیٹھتی تو ہر چند تھا ممکنمیرے مجھ میں جلنے کی چنگاریوں سےوہ آنسو تمہارا پگھلتا سرکتاتمھارے ہونٹوں کی لالی کو چھو کرمیرے خون دل میں جو غوطہ ذن…Read more …
ایک تارا

ایک تارا

سمٹ رہا ہے افق اور تاروں کی نوکیں میری اور ہیں تپ رہی ہے زمیں میری جلتی انا کی دھاتوں تلے پا بجولاں ہوں میں سر برہنا ہوں میں بے خضر کوئ موسی ہوں راتوں تلے ان سارے ستاروں سے میں بے غرض ان سارے کے ساروں سے میں بے غرض پر ایک شب جسکو دیکھا تھا بام پر وہ ایک تارا جسے ٹوٹتا جان کر دل نے کی تھی تمنا تیرے وصل کی وہ ستارہ بھی ہے ان ستاروں کے سنگ جن ستاروں کی نوکیں میری اور ہیںRead more …