“نعرہِ حرب”

آج سنا ہے پھر سےدل بےباک کے آنگن میںاس آنگن میں جو مدت سے پڑا ہے خالیبے جان، ناکشامہض گلوں کے خواب لئےفقط وعدہ بہار لئےسنسان، زہر آلود، تشنہ، بنجرپھر کود کے آئے ہیں جہنم کی فصیلوں سےہانپتے، غراتے ہوئے، کوڑھ شدہنار اگلتے ہوے افتاد کے پاگل کتےاور ضبط کی تیغوں پے قدیم لہو کے دھبےزنگ کی پوشش سے ڈھکے تھے جو، نکھر آئے ہیںورنہ پہلے بھی تو ناچیز غموں کے بونےاپنی جنجال بھری چال میں آتے ہی رہے ہیںپر اتنا اچھل پائے ہیں کے اندر آئیں؟  اب مگر ضبط کی تیغوں کو زرا دھونا ہوگا…Read more …

تمہیدِ معترضہ

وہ نیلگوں رات اور اس رات کا مہتابِ زخیم وہ تاروں کے گروہوں کا طلسمِ روشن ،اور جھیل کے پانی میں منعکس   لاریب فلک جھومتی لہروں کا سحر اور ان پر تیرتے شیشوں کے کنول رات کے جھینگر ،اور شاد نواؤں کا فسوں نکھرے ہوئے رستے، شفاف زمین ہر در پے دمکتے ہوئے زرتاب چراغ نورِ مخمل کا فروغ، ہر گاہ پے پیہم، محتوم رات تھی یوں کے پرستان میں جشن ہو جیسے اس رات کی تاب ایسی کے آنکھیں نہ جلیں نہ بادِ سبک تلخ کے جو سرد لگے دور جنگل کی…Read more …

خدا کے حضور

میں ٹوٹا پھوٹا بندا ہوںاور میرا سفینہ بھی خستہتو قادر مطلق کن کہ دےگرداب سے نکلوں پار لگوں ہو دامن جسکا خاکسترپیوند تکلم کب ڈھانپےجو من میں اتروں خاک دکھےجو باہر نکلوں خاک لگوں تو بھید دلوں کے سب جانےتو سامع بھی تو ناظر بھیاب آنکھ کے آنسو سوکھ چکےتو پاک کرے تو پاک لگوں میں گام بڑھا تو آگے بڑھتو اپنا وعدا ایفا کراب ہاتھ پکڑ کے ایسا ہوتو آپ لگے میں آپ لگوں Arqum 28/1/2016 (Haram, Makkah)  Read more …

ایک قطرہ

قطب شمالی کے اک جزیرے پر جو چند ہفتوں قبل تک برفیلے دشت سے زیادہ کچھ نہ تھا آج جھرنوں بہاروں کا آخری دن ہے برف مہلک سرطان کی مانند فضا کی خشک شریانوں میں پھیلنے لگی ہے آج روشنی، حرارت، نشاط و زندگی   آج سورج کی آخری شام ہے اور آگے اک سرد، طویل ہجر اک مدھم ہوتی نزار کرن ایک منجمد قطرے کو پگھلاتی ہے جو ایک جھاڑی کے پتے سے کودتا ہے اور سورج چھپ جاتا ہے اور وہ قطرہ گرنے سے پہلے ہی پھر سے برف بن جاتا ہے…Read more …

“خواب والے”

ہم جانثارانِ تمنا چند خوشفہمیوں پر فدا ہو چلے ہم آشفتہ جانیں شکستہ بدن ہم آدرش گلیوں میں گم ہو چکے ہماری رگ رگ تو ایک مدت سے بن لہو تھی یہ کیسے بوندیں ٹپک رہی ہیں ہمیں گماں ہے ..یہ معجزہ ہے یہ ہم جہاں مستلق پڑے ہیں نگاہ اوپر کریں تو دیکھیں بہت سے کرکس ہیں دائروں میں ،قبل ضیافت شفق کی لالی ہے دور افق پر نگاہ اک سمت، سرخ مقتل ..یہ بت قدیمی ہم آکے جس خاک پر گرے ہیں یہ گاہِ قرباں یا رزمگاہ ہے؟ خون جتنا تھا…Read more …

Ghazal II

پھر ہوا ہے لالچی آدم فریب عصر میںپھر ہے راضی خسر پے میوے عدن کے دیکھ کر   ہو کوئ جو سوختہ، توعین ممکن ہے کہ وہطور ہو آتش زدہ اس کی تجلی دیکھ کر لو مسافر چل دیا ،پھر خواب کی گٹھڑی لئےاس دیار وہم سے پنہاں حقیقت دیکھ کر   بات جو مستور تھی اور راز جو رہنے کی تھیروزِ روشن ہو گئی، میری شرافت دیکھ کر   عشق پھر گوہر ہوا یوں رات گویا ہو صدفعقل پتھر رہ گئی دن کے اجالے دیکھ کر       Arqum 9/1/2016Read more …

تخفیف و منطق اور انکا حشر

وہ لمحہ جہاں پر طلب نہ رہے شرارے میں کوئ رمق نہ رہے ہو دھنک بلبلے کی، فریب نظر ہو چمن میں مہک، کیمیائ اثر ہو حسن تتلیوں کا محض ارتقاء اور پانی ندی کا لگے شور سا سارے پربت کبھی تھے تحت بحر کے؟ بیچ اپنی زمیں تھی کسی لہر کے؟ پھر سے ٹوٹینگے ہم چند ذرات میں؟ ..اور شائد جڑیں پھر بخارات میں کیا ہے وجدان، لذت، حیات و اجل چند خلیوں کے آپس کا رد عمل؟         میری ساری تخفیف، منطق میرا ایک پل میں تیری زلف…Read more …

سچ اور جھوٹ

رات کے اندھیرے میں سچ جب نکلتے ہیں خوف کے خیاباں میں نشتر و علم تھامے خون رنگ آنکھوں میں انتقام ہوتا ہے ہم چاپ سنتے ہیں سرد فرش پر لیٹے قفل توڑ دیتے ہیں باب کھول دیتے ہیں ہم وقت کے مجرم جھوٹ اوڑھ لیتے ہیں Arqum 6/1/2016Read more …

روش

رخت سفر سنبھالو، جو روش ہے یاد رکھو چلتے چلو کہ یہ بھی اک کروٹ زماں تھی اک سال بیت جاے یا اک صدی جو سمٹے جو ابر نہیں برستے تو انہیں سمے سے کیا ہے چلتے چلو ابھی تو کہ وہ دشت ڈھونڈنے ہیں کہ جہاں وہ شجر بحثیں، ہماری تشنگی کو منزل کہاں بھلا ہے، بس ایک راستہ ہے جو سفر ہو لامکاں کا اسکو مکاں سے کیا ہے ارقم 31/12/2015Read more …
دھواں

دھواں

ہم تواتر سے برستی ہوئ تنہائ کو اور ڈوبے ہوئے لفظوں کو، الم پاروں کو وقت کی بھیگتی، چٹخی ہوئ اک کھڑکی سے منجمد ضبط کی خستہ سی صراحی میں لئے جب کسی نظم کی آتش پے چھڑکتے ہیں تو ماضی کی چٹختی ہوئ سڑکوں پر اجڑے ہوئے شہروں کی اندھیر گلیوں میں ..بجھتے ہوئے خوابوں سے دھواں اٹھتا ہے Arqum 22/12/2014Read more …