?

کبھی کبھی بادل کا سایہ اپنی بارش میں بھیگے  ایسے میں طوفان سے بچنا کیسے ممکن ہوتا ہے؟ Arqum 06/04/2017 Read more …

زندگانی

زندگانی ہے فقط ایک مسافت از قلب سدا سوز با عقل درخشاں کیونکہ قلب دکھاتا ہے بہت زندگانی ایک مسافت پھر سے از عقل سرد سنگ با قلب پریشاں کیونکہ عل قل دکھاتی ہی نہیں زندگانی..  ایک باریک سی رسی پے توازن کا گماں ہے دو ہاتھ اور ان میں اک عقل کا نشتر اک قلب کا تیشہ اور ایک ہی کرتب سے اکتا سا گیا ہے اس سرکس بے رنگ میں بے ہنر مداری سینے میں کوئ بھی اترے ہو عقل کا نشتر ..یا قلب کا تیشہ Arqum 02/05/2017Read more …

چپ

"پوچھا، "کیوں بولتے نہیں؟  میں نے کہا، اچھا ہے نا  "انسے بھی جو قریب ہیں؟" انسے تو خاص طور پر Arqum 16/05/2017Read more …

کسی سے بات

کسی سے بات اب میں یوں نہیں کرتا نہایت معتبر سا ہوگیا ہوں کسی سے بات اب میں کیوں نہیں کرتا؟  نہایت بے خبر سا ہوگیا ہوں Arqum 12/05/2017Read more …

غلط فہمی

تھوڑی سی تنہائ ہےاور بہت سی تاریکیاب دل کے گہرے پیندے میں اسکی یاد کی کھرچن ہے سوچا ہے اترونگا اک دن اور اسکو آپ مٹاؤنگا پر اتنی محنت کون کرے چھوڑو یادیں ہی تو ہیں خود پڑے پڑے مٹ جائنگی Arqum 7/2/2017  Read more …

تمام ہم اور تمام تم

  وہ ستارہ دور گردوں میں، کہکشاؤں میں ان گنت نور کے زرّے خلا میں تیرتے جائیں بزرگ سیارے اور انکے اپنے قمر مگر وہ سیارے کسی اور کا طواف کریں کئی عظیم سورج بھڑک بھڑک کے بجھ بھی گئے اور وہ انجمِ نیّر بھٹک رہا ہے دور لمحوں میں وقت سے آگے وہ انجمِ ششدر خود کو تکتا ہے مڑ مڑ کر وہ انجمِ ماضی ... اب تو بجھ چکا ہوگا کہ پہنچتی ہیں زمانوں میں حادثوں کی پرچھائیاں مگر روشنی کے سال لگتے ہیں کتنا رخشاں تھا وہ انجم کہ جو…Read more …

ضرب

وقت کے خستہ ہوئے کاغز پے رقم ہیں بل کھاتے مداروں میں جڑے حرف و اشارات اور خوب سے جینے کے قواعد سارے الفاظ کی لمبی سی قطاریں ہیں نمایاں جو گھوم کے مرکز کی طرف بھاگ رہی ہیں بیباک ہوا پھرتا ہے ہندسوں کا فشار اک آگ کناروں پے تمنا کی لگی ہے جو ازل سے مانگے ہے ابد تک کا دوام اس عقل کے گرداب سے ہے دور حرارت جو برف میں یخبستہ گلابوں کی دعا ہے کس طور چلے دور، نکہت کا چمن میں ہر گل تو ہے سہما ہوا باد خزاں…Read more …

امتنان

،آج کی رات اس طرح لفظ اترتے ہیں نگارش میں جس طرح کاسہ وقت کی سطح بلب پر الجھے ہوئے لمحے اتریں انہی الجھے ہوئے لمحوں میں گزاری ہے عمر نہ کسی دشت پے برسے نہ کسی سنگ پے ٹپکے ہوں مسلسل، پیہم ..چھلکے ہوئے جاموں کے تلے کون ٹھرتا ہے کس نے چاہا ہے کہ زات کا دامن بھیگے؟ کون پڑھتا ہے چھلکتے ہوئے لفظوں کی نظم؟ ،آج کی رات اس نظم کو کر دیتے ہیں اس آخری قاری کی بصارت کی نظر جس نے لفظوں کو میری زات کے بحروں میں…Read more …

الفاظ

الفاظ جیتے ہیں الفاظ کی بھی عمر ہوتی ہے الفاظ بھی پروان چڑھتے ہیں الفاظ اپنے وقت سے پہلے نہیں مرتے انسان مرتے ہیں الفاظ جیتے ہیں قرطاس پر جو لفظ دکھتے ہیں بارش میں بھیگیں تو اصل میں بھیگتا قرطاس ہے الفاظ گویہ با ہنر تیراک ہوتے ہوں ہمیشہ بچ نکلتے ہیں لگے گر آگ جو قرطاس کو قرطاس جلتا ہے الفاظ جیسے موم ہوتے ہوں پگھل کر پھر سے جمتے ہیں کوئ تہوار اتا ہے تو ان الفاظ میں جو حرف رہتے ہیں لہجے پہنتے ہیں سنگھار کرتے ہیں الفاظ بھی…Read more …