آج سنا ہے پھر سے
دل بےباک کے آنگن میں
اس آنگن میں جو مدت سے پڑا ہے خالی
بے جان، ناکشا
مہض گلوں کے خواب لئے
فقط وعدہ بہار لئے
سنسان، زہر آلود، تشنہ، بنجر
پھر کود کے آئے ہیں جہنم کی فصیلوں سے
ہانپتے، غراتے ہوئے، کوڑھ شدہ
نار اگلتے ہوے افتاد کے پاگل کتے
اور ضبط کی تیغوں پے قدیم لہو کے دھبے
زنگ کی پوشش سے ڈھکے تھے جو، نکھر آئے ہیں
ورنہ پہلے بھی تو ناچیز غموں کے بونے
اپنی جنجال بھری چال میں آتے ہی رہے ہیں
پر اتنا اچھل پائے ہیں کے اندر آئیں؟

 اب مگر ضبط کی تیغوں کو زرا دھونا ہوگا

کچھ نئے خون کی دھاروں سے، بردباری سے
اب ضبط کو کچھ بڑھ کے دکھانا ہوگا
..اپنے ہر گزرے ہوئے کل کے ارفع قد سے
،لڑنا ہوگا
جاں سے گزریں گے ہاں ضرور کبھی
،مگر آج نہیں
آج اس رات کو چھٹنا ہوگا
ممکن ہے کہ اور بھی آتے ہونگے
الم کے وحشی، عدو کے ابلیس
نار گلستاں ہوگی، انکو مرنا ہوگا
سنا ہے رات تو کٹ جاتی ہے
..ہاں رات کو کٹنا ہوگا


Arqum

6/2/2016

(40)

Share it :)Share on FacebookTweet about this on TwitterGoogle+share on TumblrPin on PinterestShare on LinkedInEmail to someone

Comments

comments

This article has 1 comments

  1. aftaad ke pagal kutty Reply

    Wish you all the strength & stamina to face the challenges .

    It’s a beautiful poem.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *