دھواں
ہم تواتر سے برستی ہوئ تنہائ کو

اور ڈوبے ہوئے لفظوں کو، الم پاروں کو

وقت کی بھیگتی، چٹخی ہوئ اک کھڑکی سے

منجمد ضبط کی خستہ سی صراحی میں لئے

جب کسی نظم کی آتش پے چھڑکتے ہیں

تو ماضی کی چٹختی ہوئ سڑکوں پر

اجڑے ہوئے شہروں کی اندھیر گلیوں میں

..بجھتے ہوئے خوابوں سے دھواں اٹھتا ہے

Arqum

22/12/2014

(112)

Share it :)Share on FacebookTweet about this on TwitterGoogle+share on TumblrPin on PinterestShare on LinkedInEmail to someone

Comments

comments

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *