تمام ہم اور تمام تم

  وہ ستارہ دور گردوں میں، کہکشاؤں میں ان گنت نور کے زرّے خلا میں تیرتے جائیں بزرگ سیارے اور انکے اپنے قمر مگر وہ سیارے کسی اور کا طواف کریں کئی عظیم سورج بھڑک بھڑک کے بجھ بھی گئے اور وہ انجمِ نیّر بھٹک رہا ہے دور لمحوں میں وقت سے آگے وہ انجمِ ششدر خود کو تکتا ہے مڑ مڑ کر وہ انجمِ ماضی ... اب تو بجھ چکا ہوگا کہ پہنچتی ہیں زمانوں میں حادثوں کی پرچھائیاں مگر روشنی کے سال لگتے ہیں کتنا رخشاں تھا وہ انجم کہ جو…Read more …