ایک تارا

ایک تارا

سمٹ رہا ہے افق اور تاروں کی نوکیں میری اور ہیں تپ رہی ہے زمیں میری جلتی انا کی دھاتوں تلے پا بجولاں ہوں میں سر برہنا ہوں میں بے خضر کوئ موسی ہوں راتوں تلے ان سارے ستاروں سے میں بے غرض ان سارے کے ساروں سے میں بے غرض پر ایک شب جسکو دیکھا تھا بام پر وہ ایک تارا جسے ٹوٹتا جان کر دل نے کی تھی تمنا تیرے وصل کی وہ ستارہ بھی ہے ان ستاروں کے سنگ جن ستاروں کی نوکیں میری اور ہیںRead more …