وقت کے خستہ ہوئے کاغز پے رقم ہیں
بل کھاتے مداروں میں جڑے حرف و اشارات
اور خوب سے جینے کے قواعد سارے
الفاظ کی لمبی سی قطاریں ہیں نمایاں
جو گھوم کے مرکز کی طرف بھاگ رہی ہیں
بیباک ہوا پھرتا ہے ہندسوں کا فشار
اک آگ کناروں پے تمنا کی لگی ہے
جو ازل سے مانگے ہے ابد تک کا دوام
اس عقل کے گرداب سے ہے دور حرارت
جو برف میں یخبستہ گلابوں کی دعا ہے
کس طور چلے دور، نکہت کا چمن میں
ہر گل تو ہے سہما ہوا باد خزاں سے
گلشن ہے کے مدفن میں اجل ناچ رہی ہو
زنبور یا بلبل جہاں آکے نہ پھٹکیں
بس حرف ہیں، منطق ہے، نتائج ہیں
اور بات جو لفظوں میں کہی جا نہ سکے ہے
وہ رنگ جو آنکھوں کو دکھائ ہی نہ دے ہے
اور خواب نگارش میں بھلا کیسے اتریں
ہر خواب کو ہم نے ہے دیا ایک شمارہ
جو زیست کے جنگل میں کٹے شجر ہوں جیسے
ہندسوں کا طلاطم ہے جو مرکز کو بڑھے ہے
اور اس میں فیروزاں ہے اک صفر عظیم
.. جو اس سے ضرب کھاتا ہے مٹ جاتا ہے


Arqum

18/3/2016 

(51)

Share it :)Share on FacebookTweet about this on TwitterGoogle+share on TumblrPin on PinterestShare on LinkedInEmail to someone

Comments

comments

This article has 2 comments

  1. Asma Reply

    کیا خوب ھے بات ” جو لفظوں میں کھی جا نه سکے” …!

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *