وہ ایک منجمد آنسو
جو تمھارے رخسار پر عیاں ہے
تمھاری ہنسی سے لڑ رہا ہے
وہ ایک آنسو جو تمھارے غم کا پتا نہیں ہے
تمھارا غم تو بہت بڑا ہے
اور تمھارا حوصلہ بھی
میرا سوز دل تو فقط روگ دوراں
اک عذاب ہے جو سلگ رہا ہے
نہ کسی کو توڑے نہ کسی کو جوڑے
میرا غم تو خیر.. 
کوئ غم نہیں ہے

کیا برا تھا کہ تم اس سوز کے مقابل
ذرا بیٹھتی تو ہر چند تھا ممکن
میرے مجھ میں جلنے کی چنگاریوں سے
وہ آنسو تمہارا پگھلتا سرکتا
تمھارے ہونٹوں کی لالی کو چھو کر
میرے خون دل میں جو غوطہ ذن ہوتا
تو کوئ کیسے کہتا
جو آنسو تمہارے رخسار پر تھا
آنسو تھا وہ یا میرا خون دل تھا؟

میرا غم تو خیر محض العاب طفلاں
میرا غم پرانا وہی غم ہجراں
اور میرا غم بھی بھلا کوئ غم ہے

(166)

Share it :)Share on FacebookTweet about this on TwitterGoogle+share on TumblrPin on PinterestShare on LinkedInEmail to someone

Comments

comments

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *