ہم جانثارانِ تمنا
چند خوشفہمیوں پر فدا ہو چلے
ہم آشفتہ جانیں شکستہ بدن
ہم آدرش گلیوں میں گم ہو چکے
ہماری رگ رگ تو ایک مدت سے
بن لہو تھی
یہ کیسے بوندیں ٹپک رہی ہیں
ہمیں گماں ہے
..یہ معجزہ ہے
یہ ہم جہاں مستلق پڑے ہیں
نگاہ اوپر کریں تو دیکھیں
بہت سے کرکس ہیں دائروں میں
،قبل ضیافت
شفق کی لالی ہے دور افق پر
نگاہ اک سمت، سرخ مقتل
..یہ بت قدیمی
ہم آکے جس خاک پر گرے ہیں
یہ گاہِ قرباں یا رزمگاہ ہے؟
خون جتنا تھا بہ چکا ہے
طبیب ڈھونڈیں، زہر کو روکیں
..یا لیٹ جائیں
ابھی تلک بھی تو خود تھے جراح
خود اپنے حصے خود اپنے ٹکڑے
ہم اب تلک بھی اجل کا غوغا
ازانِ مقتل سمجھ رہے تھے
کسی کی تنبیہ کا اشارہ، کوئ حقیقت پسند رائے
ہم کسی سے کہاں ڈرے تھے؟
نہ جنگ تھی یہ نہ معرکہ تھا
نہ یہ جگہ کوئ رزمگاہ تھی
لپک کہ آئے ہیں جس کی جانب
بھینٹ تھی ہم جو چڑھ چکے ہیں
نئے خداؤں کے نام ہو کر
ہمارے اجساد گل رہے ہیں
ہماری بازی ازل سے اب تک
اس ایک نقطے کو بڑھ رہی تھی؟
ہماری فوجیں تو تھی ہی نارس
خام ہی تھے ہمارے جزبے
مادیت کے عظیم پیکر
دیو، چڑیلیں تمام ظلمت
کئی زمانوں کے پگھلے سیسوں سے اپنی ِذرّہ بنا رہے تھے
آگ آنکھیں، تیغ دندان، دست پیتل
ہمارا انسے مقابلہ تھا؟
ہم مکمل سپاہِ جوھر، قدیم فرسان
حرف تھامے نکل پڑے تھے
“جو سیف ہے نا قلم کی پیارے وہ تیغِ مادی سی تیز ہوتی ہے”
کسے بتاتے جھڑپ کے دوران
بات واضح بھی کیسے کرتے
حقیقتوں کے کثیر لشکر
موت تشنہ, اٹھائے منجل،
ہماری جانب کو بڑھ رہے تھے
یہ جنگ ٹھری بہت پرانی
بہت پرانے ہیں سارے جھگڑے
خوابگر ہم، ہم مصمم، غبار راہیں
وہ عاقلانِ وجودِ حاضر،کمال ناظر
عمل کے پتلے
نہ انکے دیدے ہمارا فاضل کا شہر دیکھیں
نہ ہم ہی جھک پائیں انکے زھبی بتوں کے آگے
،ہاں مگر چند ہی رہے ہیں ہر اک زماں میں
جو جاں سے گزریں ، الم سنبھالیں
کسی تصور کا روپ دیکھیں، دور افق پر نشان پائں
کبھی تخیل کی وادیوں سے
کسی حقیقت کو کھینچ لائں
،خواب والے، عجیب روحیں
نہ بات مانیں نہ بھید کھولیں
خواب والوں کا فیصلہ تو وہ کریگا جو ہے ازل سے
حشر سجیگا، جو ہوگا مقتل؟
!یا گاہِ جنجال، دیکھ لیں گے


Arqum

20/1/2016

(124)

Share it :)Share on FacebookTweet about this on TwitterGoogle+share on TumblrPin on PinterestShare on LinkedInEmail to someone

Comments

comments

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *