وہ نیلگوں رات
اور اس رات کا مہتابِ زخیم
وہ تاروں کے گروہوں کا طلسمِ روشن
،اور جھیل کے پانی میں منعکس
  لاریب فلک
جھومتی لہروں کا سحر
اور ان پر تیرتے شیشوں کے کنول
رات کے جھینگر
،اور شاد نواؤں کا فسوں
نکھرے ہوئے رستے، شفاف زمین
ہر در پے دمکتے ہوئے زرتاب چراغ
نورِ مخمل کا فروغ، ہر گاہ پے پیہم، محتوم

رات تھی یوں کے پرستان میں جشن ہو جیسے
اس رات کی تاب ایسی کے آنکھیں نہ جلیں
نہ بادِ سبک تلخ کے جو سرد لگے
دور جنگل کی طرف اور منظر سے پرے
اٹکی ہوئی تاروں میں اڑے برق کے فانوس
اور انسے امڈتے ہوئے زرداں ہالے

سجادهِ خضرا پے زرا دوڑ کے اس نے
اک سرو کے پودے سے دبوچا تھا جو جگنو
اور اپنی ہتھیلی پے بٹھا کر تھا دکھایا
کیسے روشن سی ہوئی جاتیں تھیں دھیرے دھیرے
اسکی لرزاں سی ہتھیلی پے حنا کی بیلیں
..جیسے پریوں کی حکایت کا کوئی منظر ہو

اس رات کی ہر چیز کی روشن رو نے
میری ہر غزل کو مہتاب کئے رکھا تھا
اب ہوں مبہوت کے اس رات کے جگنو کی طرح
یہ شاعرِ مہجور، یہ  لکھاری یہ نفس
دھیما سا پڑے جاتا ہے، جلتے جلتے
یہ ضروری تو نہیں کوئی ہمیشہ دمکے
یا شعر کہے، شوخ رہے، یاد کرے
یہ ضروری تو نہیں رات وہ پھر سے لوٹے
یا کبھی آئی بھی ہو، کس نے کہا آئی ہے؟

..وہ بات، در اصل جو کرنی تھی وہ یہ ہے
..میں نے دو روز سے روٹی نہیں کھائی ہے

(75)

Share it :)Share on FacebookTweet about this on TwitterGoogle+share on TumblrPin on PinterestShare on LinkedInEmail to someone

Comments

comments

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *