وہ ستارہ
دور گردوں میں، کہکشاؤں میں
ان گنت نور کے زرّے
خلا میں تیرتے جائیں
بزرگ سیارے
اور انکے اپنے قمر
مگر وہ سیارے
کسی اور کا طواف کریں
کئی عظیم سورج
بھڑک بھڑک کے بجھ بھی گئے
اور وہ انجمِ نیّر
بھٹک رہا ہے دور لمحوں میں
وقت سے آگے
وہ انجمِ ششدر
خود کو تکتا ہے مڑ مڑ کر
وہ انجمِ ماضی
اب تو بجھ چکا ہوگا
کہ پہنچتی ہیں زمانوں میں حادثوں کی پرچھائیاں
مگر روشنی کے سال لگتے ہیں
کتنا رخشاں تھا وہ انجم کہ جو وہ تھا
تمام کہکشاں کی رعنائ
تمام انجم، تمام سیارے
تمام ہم اور تمام تم سارے
خطِ زمان پر روشنی کے سالوں قبل
, شائد سبھی
کبھی کے بود سےنابود ہو چکے

Arqum

4//4/2016

(40)

Share it :)Share on FacebookTweet about this on TwitterGoogle+share on TumblrPin on PinterestShare on LinkedInEmail to someone

Comments

comments

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *