،آج کی رات
اس طرح لفظ اترتے ہیں نگارش میں
جس طرح کاسہ وقت کی سطح بلب پر
الجھے ہوئے لمحے اتریں
انہی الجھے ہوئے لمحوں میں گزاری ہے عمر
نہ کسی دشت پے برسے
نہ کسی سنگ پے ٹپکے ہوں مسلسل، پیہم
..چھلکے ہوئے جاموں کے تلے کون ٹھرتا ہے
کس نے چاہا ہے کہ زات کا دامن بھیگے؟
کون پڑھتا ہے چھلکتے ہوئے لفظوں کی نظم؟
،آج کی رات
اس نظم کو کر دیتے ہیں
اس آخری قاری کی بصارت کی نظر
جس نے لفظوں کو میری زات کے بحروں میں
لہروں سے امڈتے ہوئے طوفانوں میں
گرتے ہوئے تاروں سے شعائیں لے کر
بجھتے ہوئے نغموں سے نوائیں لے کر
میرے بیزار تکلم کے کفر کو پھر سے
اپنی کچھ پل کی رفاقت کے ید بیضا سے
قائل آس کیا، مومن امید کیا
..اور ہنر بخشا، غریق نظم ہونے کا


Arqum

11/2/2016

(65)

Share it :)Share on FacebookTweet about this on TwitterGoogle+share on TumblrPin on PinterestShare on LinkedInEmail to someone

Comments

comments

This article has 1 comments

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *