الفاظ جیتے ہیں
الفاظ کی بھی عمر ہوتی ہے
الفاظ بھی پروان چڑھتے ہیں
الفاظ اپنے وقت سے پہلے نہیں مرتے
انسان مرتے ہیں
الفاظ جیتے ہیں
قرطاس پر جو لفظ دکھتے ہیں
بارش میں بھیگیں تو
اصل میں بھیگتا قرطاس ہے
الفاظ گویہ با ہنر تیراک ہوتے ہوں
ہمیشہ بچ نکلتے ہیں
لگے گر آگ جو قرطاس کو
قرطاس جلتا ہے
الفاظ جیسے موم ہوتے ہوں
پگھل کر پھر سے جمتے ہیں
کوئ تہوار اتا ہے
تو ان الفاظ میں جو حرف رہتے ہیں
لہجے پہنتے ہیں
سنگھار کرتے ہیں
الفاظ بھی زلفیں سجاتے ہیں
الفاظ بھی تیور بدلتے ہیں
الفاظ جو قرطاس پر لکھے نہیں جاتے
وہ کندہ دل پے ہوتے ہیں
کبھی یہ خون کی گردش میں ملکر ساتھ رہتے ہیں
کبھی یہ ناگ بن کر کسمساتے ہیں
اگر الفاظ کو کچی عمر میں ہم نہ ٹوکیں تو
بڑے ہو کر ستاتے ہیں
بہت سرکش نکلتے ہیں
الفاظ بھی بیزار ہوتے ہیں
یہ اکثر جاگتے ہیں رات کو
اور دن میں سوتے ہیں
الفاظ ہی سوچو تو کفر و شرک میں دیوار ہیں
الفاظ ہی کلمے میں ہیں
اور “لا” بھی تو اک لفظ ہے
اک لفظ ہی میرا تمھارا نقطہ آغاز ہے
اک لفظ ہی تو بود اور نابود میں حائل رہے
یہ لفظ ہی لیتے ہیں جاں
اور لفظ ہی دیتے ہیں جاں
کوئ ادا ہو کر الم ہیں
کوئ رک کر امتحاں
الفاظ ہی ڈھارس بھی دیں
الفاظ ہی خستہ کریں
الفاظ ہی دیتے امیدیں
لفظ ہی تنہا کریں

کیسے ممکن ہے کہ پھر
الفاظ ہی زندہ نہ ہوں؟
ہر دفعہ انکو پڑھیں
معنی نئے دیتے ہیں یہ


Arqum

15/2/2016 

(40)

Share it :)Share on FacebookTweet about this on TwitterGoogle+share on TumblrPin on PinterestShare on LinkedInEmail to someone

Comments

comments

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *