آؤ زرا دیکھیں

آؤ زرا دیکھیں
کیسے جانتے ہیں ہم
کہ کب کوئ زیاں بنتا ہے
روگ جاویداں
اک ہار کیسے زندگی کو 
نار کرتی ہے
کچھ لوگ جب جائیں
تو کب احساس ہوتا ہے
کہ انکے بعد شمع زیست 
گرچے گل نہیں ہوگی
مگر اب وقت کے صحرا میں
عریاں ٹمٹمائے گی
یقینی بے یقینی کی
سیاہ پرخار راہوں سے
قباء ملمی الجھےگی 
اور دامن بچائے گی

تو بس پھر پوچھنا خود سے
کہ اس غم سے جھگڑنا ہے
یا پیہم مسکرانہ ہے
کسی غم کو انا کے پار رکھنا ہے
یا اسکے سوز سے آگے کو جانا ہے

تو بس پھر سوچنا خود سے
کہ جو بھی وقت باقی ہے
کبھی دھندلہ بھی کر پائےگا
اس غم کو جو روشن ہے
غبار ماہ و سال کیا ڈھانپے گی
وہ ریزے جو سرکش ہیں

اگر پھر وقت کی ذرہ میں
اب سے چھید واضح ہوں
اگر وہ ایک تنہا غم 
مثل تیر بڑھتا ہو
تو پھر اس سے نہیں لڑنا
تو پھر اس سے نہیں ڈرنا
وہی اک غم تو ہے جو ہے
متاع ذندگی سب کچھ
صبر کی آزمائش بھی
رموز دین و دانش بھی
گزرتی ذندگی کی بھیڑ میں
اک مسکراہٹ بھی


Arqum

9/12/2015 (Lahore, Pakistan)

(131)

Share it :)Share on FacebookTweet about this on TwitterGoogle+share on TumblrPin on PinterestShare on LinkedInEmail to someone

Comments

comments

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *